ابنا: پاکستان کی فوج کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے سربراہ جنرل باجوہ نے ایک غیرملکی ٹی وی کو بتایا کہ ہندوستان سے ملحقہ سرحد پر پاکستانی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم ہے جبکہ اس کی نسبت قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف لڑنے والے سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ اہلکار ہے۔یہ اندرونی خطرے کے حوالے سے ہماری سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ کئی برسوں کے دوران ہم نے دہشت گرد عناصر کو شمالی وزیرستان میں گھیر لیا ہے اور اب ہم ان کا صفایا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے مزید بتایا کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی طالبان کے پندرہ سے بیس ہزار ماہرجنگجو موجود ہیں۔گزشتہ ہفتے، پاکستانی وزارت دفاع کے سینیئر اہلکاروں نے واشنگٹن میں امریکی میڈیا کے لیے ایک بریفنگ دی تھی، جس کے بعد امریکی میڈیا کے کچھ اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ فاٹا میں فوجی آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان خبروں میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں، بالخصوص شمالی وزیرستان، میں جٹ طیاروں کے ذریعے سرجیکل سٹرائکس میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اپنے اہداف کو کمزور بنایا ہے۔......./169
1 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 510483
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو گھیرے میں لینے کے بعد انکا خاتمہ کرنے کے لیے تیار ہے۔